Take a fresh look at your lifestyle.

ایلوا، مصبر کے فوائد

ایلوا، مصبر (Aloes) گھیکوار، (Aloe Vera) Dried Aloe Vera
دیگرنام : عربی اور فارسی میں صبر،مرہٹی میں کالا بول، گجراتی میں ایلیو، بنگانی میں گھرت کماری مصبر، ہندی میں ایلوا،سنسکرت میں اے لیکھ ،سندھی میں کوار بوٹی اور ایریل ،یونانی میں آلویہ فیقرا اور انگریزی میں ایلوزکہتے ہیں۔
ماہیت : گھیکوار ایک عام پودا ہے جس میں ڈنٹھل اور تنا نہیں ہوتا ۔جڑ کے چاروں طرف اور لمبے کنارے کانٹے دار پتے پیدا ہوتے ہیں۔ جن میں گودا بھرا ہوتا ہے۔یہ پتے لگ بھگ ایک فٹ لمبے اور ڈھائی انچ چوڑے ہوتے ہیں۔ اس کے گودے اور پانی میں سےمصبر کی طرح بو اور ذائقہ مصبر کی طرح کڑوا ہوتا ہے۔ اس پودے کے پھل نہیں لگتا لیکن ماہ فروری مارچ میں اس کے درمیان میں لمبی سید ھی شاخ نکلتی ہے۔جس کے اوپر بالی نما گلابی پھول لگتے ہیں۔اس کی جڑ پھیل کر نئے پودے پیداکرتی ہے ۔اس میں ہر قسم کا کشتہ بن سکتا ہے۔
رنگ : تقریباًسیاہ اور ڈالیاں چکنی ہوتی ہیں۔
ذائقہ : سخت کڑوا اور جی متلانے والا ہوتا ہے۔
اہم بات : ایلوا گھیکوار کے پتوں کے گودے کا عصارہ ہے جوکہ کئی قسم کا ہوتا ہے۔لیکن بہترین ایلوا صبرسقو طری ہوتا ہے۔جہاں اس کی بابت ہی بیان ہوگا
ایلوا کے پودے کو ایلوایا ایریا ایلوچائی منن کہاجاتاہے۔اس پودا کو عموماًگھروں میں خوبصورتی کیلئے لگایاجاتا ہے۔
مقام پیدائش : پاکستان اور ہندوستان
مزاج : گرم خشک درجہ دوم
افعال : ملین ومسہل ،مقوی معدہ ،مقوی جگر ،قاتل کرم شکم ،مدرحیض ،منقی قروح
استعمال : ایلوا قبض دور کرنے کیلئے بکثرت استعمال ہوتا ہے۔دماغ پیٹ،اور مفاصل کے مادے کو خارج کرتا ہے۔ مفردیامناسب ادویہ کے ہمراہ امراض سوداویہ میں مستعمل ہے۔
تقویت معدہ کے لئے خفیف مقدار میں استعمال کیاجاتا ہے۔
کرم شکم خصوصاًچونوں کے قتل واخراج کیلئے اس کے آب محلول سے حقنہ کرتے ہیں۔یا کسی روغن میں ملاکر مقعد میں لگاتے ہیں۔اور بعض کرم مار دواؤں میں بھی ان کو شامل کیاجاتا ہے۔جو کھانے کو دی جاتی ہے۔
مدر حیض ہونے کی وجہ سے بندش حیض ،قلت حیض ،سوءہضم دائمیقبض میں مفید ہے۔حیض کی کمی میں فولاد کے مرکبات کے ہمراہ استعمال کرانے سے حمل ساقط ہوجاتا ہے۔اسقاط حمل کیلئے اس کو بطور فررجہ بھی استعمال کرتے ہیں۔
زخموں کو پاک و صاف کرنے کیلئے تنہایامناسب ادویہ کے ہمراہ ذرورکرتے یامرہم میں شامل کرکے لگاتے ہیں۔بصارت کو تقویت دیتا ہے۔
سدہ کھولتا ہے۔ اشق رسوت اقاقیاافیون کوسرکہ میں حل کرکے استعمال کرنا ورم طحال کونافع کرتاہے۔
نفع خاص : مسہل ہے۔
مضر : خراش امعاء پیداکرتاہے۔
مصلح : کتیرا اورگل سرخ۔
بدل : تربد،عصارہ ریوند
کیمیاوی اجزاء : تلخ جوہر ایلوان ،صبرین ،موڈین ،ریزن،اڑنے والاتیل،گیلک ایسڈ پایا جاتا ہے۔
مقدارخوراک : ایک سے چار رتی
مشہورمرکبات : حب شب یار،حب صبر،حب تنکار،حب مدر،حب ایارج۔
خاص فوائد : ایلوز کو ہومیوپیتھی میں اسہال بند کرنے کیلئے پوٹینسی میں استعمال کرتے ہیں۔اور بواسیر میں حب کہ ٹھنڈے پانی سے بواسیر کے درد کو افاقہ ہوتو ایلوز استعمال کرتے ہیں۔

دواء خود بنا لیں یاں ہم سے بنی ہوئی منگوا سکتے ہیں
میں نیت اور ایمانداری کے ساتھ اللہ کو حاضر ناضر جان کر مخلوق خدا کی خدمت کرنے کا عزم رکھتا ہوں آپ کو بلکل ٹھیک نسخے بتاتا ہوں ان میں کچھ کمی نہیں رکھتا یہ تمام نسخے میرے اپنے آزمودہ ہوتے ہیں آپ کی دُعاؤں کا طلب گار حکیم محمد عرفان
ہر قسم کی تمام جڑی بوٹیاں صاف ستھری تنکے، مٹی، کنکر، کے بغیر پاکستان اور پوری دنیا میں ھوم ڈلیوری کیلئے دستیاب ہیں تفصیلات کیلئے کلک کریں
فری مشورہ کیلئے رابطہ کر سکتے ہیں

Helpline & Whatsapp Number +92-30-40-50-60-70

Desi herbal, Desi nuskha,Desi totkay,jari botion se ilaj,Al shifa,herbal

ایلوا، مصبر


ایلوویرا جوس کے فائدے حاصل کرنے کے لئے پہلے یہ آرٹیکل پڑھ لیں، غلط طریقہ سے ایلوویرا استعمال کر نے سے فائدہ کی بجائے نقصان ہوسکتا ہے
ایلوویرا کے فائدے تو آپ نے بہت پڑھے ہوں گے لیکن ایلوویرا جوس استعمال کرنے سے پہلے ان احتیاطوں کو ملحوظ خاطر رکھنے سے ہی مطلوبہ نتائج اور فوائد حاصل ہوں گے۔
ایلوویرا کو کاٹنے کے بعد کٹنے والی سائیڈ کا منہ دو گھنٹے تک نیچے کی جانب سیدھی حالت میں رکھا جائے تکہ اس میں موجود پیلے رنگ کا زہریلا لعاب نکل جائے اس کے بعد ہی ایلوویرا کو استعمال کرنا چاہئے۔ ایلوویرا کے اس زہر کو نکالے بغیر استعمال کرنے سے فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہوسکتا ہے۔ اگر آپ ایلوویرا کا جوس نکال کر فریج وغیرہ میں محفوظ کرنا چاہیں تو اس کے لئے شیشے کی بوتل یا برتن استعمال کریں۔ پلاسٹک یا دھات کے برتن کو اساتعمال نہ کریں۔
مجموعی طور پر ایلوویرا مفیدغذا بھی ہےاور دوا بھی لیکن ہر ایلوویرا کھانے کے قابل نہیں ہوتا۔۔ جس پودے سے ایلوویرا حاصل کیا جائے اس کی عمر 4 سال سے کم نہ ہو، اسے مقدار خوراک سے زیادہ اور دو سے تین ہفتوں سے زیادہ مسلسل استعمال نہ کیا جائے۔ ایک دن میں دو سے تین مرتبہ استعمال کر سکتے ہیں۔ ایک وقت میں پچاس سے ساٹھ ملی گرام کی مقدار سے زائد استعمال نہ کی جائے، ایک کھانے والی چمچ میں 50 تا 60 ملی گرام تک جیل کی مقدار آ جاتی ہے۔ عام حالات میں تو ایلوویرا کو اسی طریقہ سے استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن ہر مرض میں ایک ہی طریقہ استعمال سے فوری رزلٹ حاصل نہیں کیا جا سکتا اگر آپ کسی خاص مرض سے نجات حاصل کرنے کے لئے اسے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے معالج سے مشورہ کر لینا چاہئے۔
ایلوویرا جیل استعمال کرنے کے فوراً بعد کھانا نہ کھائیں، آدھ گھنٹہ بعد کچھ کھائیں۔ کچھ لوگوں کو ایلویرا کھانے سے الرجی یا ڈائریا بھی ہو جاتا ہے انہیں ایلوویرا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ دوران حمل، خونی بواسیر، گردوں کے مریض اور جنہیں تھائی رائیڈ کا مسئلہ ہو وہ بھی ایلوویرا استعمال کرنےسے پرہیز کریں۔ ایلوویرا کا گودا جگر کے لئے مفید ہے لیکن اس کا مزاج گرم و خشک درجہ دوم ہونے کی وجہ سے جگر کے مریض معالج کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کریں، کم عمر بچیوں کو ایلویرا ہر گز استعمال نہ کرائیں وگرنہ انہیں قبل از وقت بلوغت اور حیض کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایلویرا کا گودا، خون کو پتلا کرتا ہے اس لئے ایسے مریض جو خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کر رہے ہوں وہ بھی معالج کے مشورہ کے بغیر استعمال نہ کریں۔ انٹی بکٹیریل ہونے کی وجہ سے ایلوویرا میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ اس کے جوس میں کسی قسم کے جراثیم، بیکٹیریا یا وائرس زندہ نہیں رہ سکتے۔ ایلوویرا میں 20منرلز، 12وٹامنز، 18امینوایسڈ، 75نیوٹرنٹس اور 2 سو طرح کے اینزائمز ہوتے ہیں۔ ایلوویرا کو بطور سبزی بھی استعمال کیا جاتا ہے اس کا اچار بھی ڈالا جاتا ہے جبکہ بنگلہ دیش کے گلی کوچوں اور بازاروں میں آج بھی اس کا تازہ جوس بیچنے کا کاروبار جاری ہے۔ نہ بیچنے والے کو پتا ہے کہ کتنی مقدار فائدہ اور نہ پینے والا یہ جانتا ہے کہ ایلوویرا لسی نہیں ہے کہ جتنی مرضی پی جائیں۔
ایلوویرا جوس ہماری آنتوں میں موجود زہریلے بکٹریا کو نکال دیتا ہے، آنتوں کے اندر جمے ہوئے فاسد مادوں کی صفائی کر دیتا ہے، معدہ کی تیزابیت، السر، دائمی قبض، نظام ہضم کی تمام پیچیدگیاں ختم کر کے، نظام ہضم کی طاقت کو بحال کردیتا ہے۔ ایلویرا کا گودا، شوگر لیول کو بھی کم کرتا ہے اس لئے ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریض بھی اس سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں، ایلوویرا جوس، کولیسٹرول اور خون میں لوتھڑے بننے کا عمل کنٹرول میں رہتا ہے، موٹاپے کو ختم کرتا ہے، کمر، جوڑوں اور پٹھوں کے درد سے نجات دلاتا ہے، دمہ اورتلی کے مریضوں کے لئے بھی مفید ہے، مسہل و مصفیٰ خون ہونے کی وجہ سے امراض فساد خون میں بکثرت استعمال کیا جاتا ہے، حیض کے مسائل کا شکار خواتین کو اس تکلیف سے نجات دلاتا ہے، قوت باہ میں اضافہ کرتا ہے، ہائی بلڈ پریشر اوردل کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہے۔ ایلوویرا کو، بالوں کی حفاظت، سرمیں خُشکی کو دور کرنے کے لئے اور جلد کو خوبصورت اور نرم و ملائم بنانے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ انٹی سوزش انٹی میکروبیل اورنمی کو قائم رکھنے کی خصوصیات کی بنا پرجلدی امراض اور زخموں کو ٹھیک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ منہ کے چھالوں، مسوڑوں کے امراض اور دانت کی تکلیف میں بھی اس کا استعمال سے مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ ایلوویرا کینسر کے مریضوں کی قوت مدافعت میں اضافہ کر کے مرض کو شدت اختیار کرنے سے روکتا ہے۔ آپ کو بھی ایلوویرا ضرور استعمال کرنا چاہئے لیکن احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھ کر اور ہمارے بتائے گئے طریقہ کے مطابق استعمال کرنے سے ان شاءاللہ آپ کو ئی نقصان نہیں ہوگا۔ ایلویرا جوس کو بنا بنایا خریدنے کی بجائے تازہ ایلوویرا کا گودا استعمال کریں

جواب چھوڑیں